Posts

Pervez Musharraf: The Controversial Legacy of a Military General Turned President

Image
Pervez Musharraf is a well-known name in the political arena of Pakistan. He served as the President of Pakistan from 1999 to 2008, and his tenure was marked by several significant events and reforms. Born on August 11, 1943, in Delhi, India, he moved to Pakistan with his family in 1947 after the partition of India. He died on February 5, 2023 in American Hospital Dubai, Dubai, United Arab Emirates after prolonged illness. Musharraf started his military career in 1964 when he was commissioned in the Pakistan Army. He served in several senior positions throughout his career, including as the Chief of Army Staff (COAS) from 1998 to 2007. During his tenure as COAS, he played a key role in the Kargil conflict with India in 1999 and in the US-led War on Terror after the 9/11 attacks in 2001. In 1999, Musharraf overthrew the democratically elected government of Prime Minister Nawaz Sharif in a bloodless coup and declared himself the President of Pakistan. He suspended the Constitution, disso...

General Zia-ul-Haq: Examining the Positive Aspects of his Rule in Pakistan

Image
General Zia-ul-Haq was the sixth President of Pakistan and served as the Chief of Army Staff from 1976 to 1988. He is often criticized for his authoritarianism and for implementing Islamic rules during his rule, but there were also many many positive aspects of his tenure. One of the main positive aspects of General Zia-ul-Haq's rule was his efforts to improve the country's economy. He implemented policies aimed at reducing government spending, increasing exports, and attracting foreign investment. Under his leadership, Pakistan experienced significant economic growth and saw improvements in its infrastructure, including the construction of new roads and bridges. Another positive aspect of General Zia-ul-Haq's rule was his focus on improving education in the country. He established new schools and universities and introduced measures aimed at improving the quality of education. He also promoted the teaching of Islamic values in schools and encouraged the study of Islamic hi...

Black Day in the History of Pakistan

Image
Nawai Waqt Newspaper Headlines announcing the sad incident of Pakistan's history

When Russian Ambassador made rude comments to General Zia

Image

تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی

Image
تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی۔۔ یہ واقعہ غالباً 1983-84 کا ہے۔ جب لاہور شہر میں ایک پانچ سالہ معصوم بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی اور زیادتی کے بعد اُس کو قتل کردیا گیا۔ اُس وقت کے صدرِ مملکت اور آرمی چیف جنرل ضیاءالحق شہید نے 24 گھنٹوں کے اندر اندر قاتل کو گرفتار کروایا اور سرِعام پھانسی پر لٹکایا اور پھر کافی عرصے تک امن رہا اور دوبارہ ایسا گھناؤنا واقعہ رونما نہ ہوا۔۔ کاش آج بھی ہمارے درمیان جنرل جیسا حکمران ہوتا، تو قصور میں رونما ہونے والے سابقہ اور موجودہ گھناؤنے واقعات میں ملوث ملزمان کو سرعام لٹکادیا جاتا۔۔

The strategy of soviet war by General Zia Ul Haq

A report by ARY news regarding the war of soviet union and perfect execution by General Zia ul Haq.

criterion for a great general in Islam

Image

الذوالفقار اور ضیاءالحق شہید

Image
جنرل ضیاءالحق شہید پر ایک نہیں کہیں قاتلانہ حملے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک کا اعتراف آصف بٹ کی شائع ہونے والی سوانح عمری ”کئی سولیاں سرِ راہ تھیں“میں کیا گیا۔ اس کتا ب میں وہ لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔ میر شاہنواز بھٹو ہمارے گوریلا کمانڈر تھے جن کو تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) نے مسلح تربیت دی تھی جبکہ میر مرتضی بھٹولیبیا کے صدر قذافی کی مالی امداد سے کابل میں ہمارے اخراجات برداشت کر رہے تھے۔ آصف بٹ کو کابل میں مرتضی بھٹو نے میزائل کے ذریعے جنرل ضیاءالحق  کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ وہ نام بدل کر راولپنڈی آیا اور ایئر پورٹ کے قریب ایک گھر کرائے پر لیا جس کی چھت سے اس نے میزائل داغنا تھالیکن سیر سپاٹے کے شوق میں گرفتار ہو کر پشاور جیل پہنچ گیا۔ یہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تو کابل سے حکم ملا کہ بھارت کے راستے سے افغانستان آ جاو ¿۔ موصوف نے نارووال کے قریب سے سرحد پار کرنے کی کوشش کی تو بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے بھگا دیا اور کچھ عرصہ بعد گرفتار ہو گئے۔ آصف بٹ لکھتا ہے کہ کہ الذوالفقار نے چوہدری ظہور الہی کو نہیں بلکہ مولوی مشتاق حسین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ 25ستمبر 1981...

سقوط مشرقی پاکستان کے اصل حقائق

Image
1994/95 کی بات ہے، ایوان کارکنان پاکستان (لاہور) میں 16 دسمبر کی تقریب تھی، میجر جنرل (ر) رائو فرمان علی جو مشرقی پاکستان کے آخری گورنر اے ایم مالک کے مشیر اور پھر بھارت میں قید رہے تھے، سقوط مشرقی پاکستان کے اسباب و واقعات پر روشنی ڈال رہے تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ہم تو یہاں سے ایک ہزار میل دور تھے اور ادھر سے ہم پر عجب عجب فیصلے تھوپے جا رہے تھے۔ یہ بے نظیر زرداری کی دوسری حکومت تھی، سامعین رائو صاحب سے مطالبہ کر رہے تھے کہ آپ کھل کر بتائیں کہ فیصلے کون کر رہا تھا اور وہ بتا نہیں پا رہے تھے۔ اتنے میں ایک صاحب اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ’’میں بتاتا ہوں کہ فیصلے کون کر رہا تھا۔ میرا نام کرنل محمود ہے اور کرنل سلیم اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھارتی طیارہ گنگا (30 جنوری 1971ئ) کو لاہور ایئر پورٹ پر اتار لیا گیا تو صدر پاکستان جنرل یحییٰ کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر بتایا گیا کہ ایک بھارتی طیارہ ہائی جیک ہونے کے بعد لاہور کے ہوائی اڈے پر آن اترا ہے۔ اس کا کیا کیاجائے؟ جنرل یحییٰ نے نہایت بے نیازی سے جواب دیا: ’’جائو، بھٹو سے جا کے پوچھ لو‘‘۔ اس پر ہال میں ’’شیم شیم‘‘ کے نعرے ب...

Alzulfiqar - First Terrorist Organization of Pakistan

Image
Date: March 03, 1981 Aircraft Type: Boeing 720-030B Registration: AP-AZP Crew: 9 on board Passengers: 132 on board Number of hijackers: 3 Total on board: 144 Victims: 1 passenger Flight: Karachi - Peshawar Flight number: PK-326 Description: On March 3, 1981, Pakistan International's flight PK-326 began as a routine domestic hop from Karachi to Peshawar. In midair three heavily armed men seized the plane, diverted it to Kabul, Afghanistan, and demanded the release of 92 "political prisoners" from Pakistani jails. On March 4, twenty nine hostages including women, children and sick men were released in Kabul. The released passengers were flown to Peshawar by PIA Fokker F27 Friendship Mark 200 (AP-AUR) on March 5. Another sick male passenger was released by hijackers on March 5. The hijacked Boeing 720B sat in Kabul, and when Pakistan's President Mohammad Zia-ul-Haq refused to give in, the hijackers on March 6 shot a Pakistani diplom...

سقوط جونا گڑھ

9 نومبر 1948 بھارت نے جونا گڑھ پر قبضہ کرلیا تھا اس وقت کے نواب آف جونا گڑھ نے اپنی پڑوسی ریاستوں مانگرول اور مانا ودر کے ساتھ مل کر پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ مانگرول اور مانا ودر کے نواب بھی پاکستان سے الحاق چاہتے تھے، اس سلسلے میں سرکاری طور پر گورنر جنرل آف پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نام خط تیار کرلیا گیا تھا، نواب کو وزیراع ظم کے دیوان شاہنواز بھٹو(ذوالفقار علی بھٹو کا والد) سے غداری کا خدشہ تھا، اس لیے انہوں نے دیوان کے بجائے اپنے ایلچی کے ذریعے الحاق کا خط قائد اعظم محمد علی جناح کو بھیجا لیکن اس سے پہلے سرشاہنواز بھٹو نے اس کے مندرجات لارڈ ماونٹ بیٹن کو ٹیلی گرام کردیے اور نیتجتاً ماونٹ بیٹن نے پولیس ایکشن کے ذریعے راتوں رات جونا گڑھ پر قبضہ کرلیا۔سرشاہنواز بھٹو کے اس اقدام پر اس وقت کے وزیراعظم شہید ملت خان لیاقت علی خان نے انہیں غدار قرار دے دیا تھا، جس پر خدابخش بھٹو نے ان سے لاتعلقی کا اعلان کردیا تھا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں ان کی جائیدادیں نہ ضبط کرلی جائیں۔ اندازہ کریں کہ یہ سارے کا سارے خاندان ہی غدار ہے لیکن منافقین اور بکاومیڈیا ان کو لیڈر...

سقوط ڈھاکہ اور قدرت کا انتقام

Image
پاکستان توڑنے والوں کے ساتھ قدرت کا ایسا رویہ کہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے سقوط ڈھاکہ کو آج 44 سال ہوچکے ہیں لیکن اس سانحے کے ذمہ داران کو کسی اور نے سزا دی ہو یا نہ دی ہولیکن قدرت نے ضرور دی۔ سابق بیورو کریٹ ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ”14 اگست پاکستان کا اور 15اگست ہندوستان کا یوم آزادی ہے۔ 15 اگست 1975ءکو ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمن اور اس کے خاندان  کو قتل کردیا گیا، صرف اس کی بیٹی حسینہ واجد محفوظ رہی کیونکہ وہ وہاں موجود نہیں تھی۔ 4 اپریل 1979ءکو جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کو پھانسی چڑھایا۔ 13 اکتوبر 1984ءکے دن ہندوستانی وزیراعظم اندرا گاندھی کو خود اس کے اپنے محافظوں نے گولیوں سے بھون دیا۔ یحییٰ خان ذلت و رسوائی کے ساتھ خوفزدہ قید کی زندگی گزار کر مرگیا۔ وہ قیامت تک نفرت کی علامت رہے گا۔ پھر قدرت کا انتقام صرف یہاں تک محدود نہ رہا شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کی تمام نرینہ اولاد (Male) غیر فطری موت مری۔ پاکستان توڑنے والوں کا انجام کس قدر خوفناک اور عبرتناک تھا۔ تاریخ میں ملک ٹوٹتے رہے ہیں، ملکوں کے جغرافیے بدلتے رہے ہیں، روس ...

Look How a Lion Roars

Image
General Zia is the only Muslim leader whose Ghaibana Namaz e Jinaza was also recited in Khana e Kaaba and in  Masjid e Nabwi, MashAllah! Hear this amazing soul shaking speech and know what great man he was. There is a reason why Jews, Hindus and Crusader had him assassinated. he was a Mard e Momin and a dervesh ruler.  Muslim world was bitterly divided in the 80's. Iran-Iraq was going on and OIC had not invited Iran. Egypt had signed the camp David accord and it was thrown out of Arab League and OIC. No body was speaking for Afghan Muslims who were under Soviet rule!  There was no body who play the role of moderator for the entire Ummah. Then Allah selected General Zia !!! Then the entire Muslim world asked Pakistan to represent the Ummah in UN. This speech was made in Casablanca and is one of the most historic moment in history of Pakistan when we admonished, adviceed and protected the Ummah against internal feuds and bitter sectarian wars.  Can any leade...

Afghans fighting our war, A speech by General Zia Ul Haq

Image
A warning and message for all of us from General Zia Ul Haq in favor of Afghan Mujahideen. Mashallah each and every word is true and still relevant. Afghans are not fighting for their own freedom. They are fighting for us. If they are defeated, Pakistan would be the next target.

True facts about Afghanistan by General Zia Ul Haq

General Zia Ul Haq (Rehmatullah Alaih) in this speech is speaking about Afghan Mujahideen.

Doctor Abdul Qadeer discussing role of General Zia Ul Haq in Pakistan's Nuclear Program

Image
Doctor Abdul Qadeer in this interview discusses the role and clear vision of General Zia Ul Haq (Rehmatullah Alaih) in Pakistan's Nuclear Program. 

A Memorable Interview Before Soviet Defeat

Image
This is a memorable interview with General Zia Ul Haq (Rehmatullah Alaih) just before the Soviet Army started pulling out from Afghanistan. General Zia clearly told what is going to happen and why. And that, 100,000 Russian Army came in Afghanistan within three weeks, but are giving them 3 months to go back.

خانہ کعبہ پر قبٖضہ اور جنرل ضیاء کا کامیاب آپریشن

Image
1979 میں جوہیمن نامی شخص نے اپنے سینکڑوں دہشت گرد ساتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ پر قبٖضہ کر لیا اور اعلان کیا کہ اسکا کزن محمد بن عبد اللہ القحطانی امام مہدی ہے اور ساری دنیا کے مسلمانوں کو اس کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہئے ۔ اور خانہ کعبہ میں موجود سینکڑوں حاجیوں کو یرغمال بنا لیا ۔ اس کے اس عمل سے پوری دنیا کے مسلمان سناٹے میں آگئے اور فوری طور پر دنیا بھر کے علماء نے اس کے خلاف فتوی دیا اور  خانہ کعبہ کے اندر کاروائی کرنے کی بھی اجازت دی ۔ وہاں سعودی آرمی اور فرنچ آرمی موجود تھی ۔ دہشت گردوں کے پاس سنائپرز اور شارپ شوٹرز تھے جنہوں نے مسجدالحرام میں جگہ جگہ پوزیشینیں سنبھال لیں ۔ دو دن تک مقابلہ ہوا لیکن تقریباً ڈیڑھ یا دوسو کے قریب فوجی ہلاک ہونے کے باوجود سعودی اور فرنچ آرمی ذرا بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔ اور شدید جانی نقصان اٹھایا- پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی زبردست بے چینی تھی اور پاکستان کی حکومت اس وقت ایک سچے مسلمان کے ہاتھ میں تھی- جنرل ضیاء الحق نے ایس ایس جی کمانڈوز کا ایک دستہ ترتیب دیا تھا اور وہ مسلسل سعودی عرب سے رابطے میں تھے کہ انہیں آپریشن کرنے کا مو...

عظیم جنرل کے بارے میں ایک خواب

Image
یہ خواب میرے ایک عزیز دوست نے بھجوایا ہے اور میں اسکو اسی طرح شیر کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔!! اپنے پہلے اعتکاف کے دوران، نیلم بلاک کی جامع مسجد حنفیہ میں ہمارے ایک معتکف ساتھی یاسین اَنکَل کے والد صاحب مسجدتشریف لائے تھے۔ ان کا نام حاجی حبیب اللہ ہے۔ نہایت نرم گو، نفیس طبع اور عبادت گزار مسلمان ہیں۔ میں ان کو مومن گردانتاہوں۔ چھوٹا قد، سانولا رنگ، باریک آنکھیں، دو مٹھی برابر داڑھی جو رنگ میں دودھ جیسی سفید اور ایک نہایت عمدہ نمازی ٹوپی۔ حاجی حبیب اللہ صاحب کی جیب میں ہر وقت ایک "پاکٹ ڈائری" پڑی ہوتی تھی جس میں وہ فرصت کے لمحوں میں حالتِ مست میں بیٹھ کر نعتِ رسول اور حمدِ باری تعالیٰ تحریر کیا کرتے۔  پر اس روز وہ پہلے کی طرح نعت سنانے نہیں بلکہ پاکستان کے متعلق بات کرنے آئے تھے۔ بات یہ ہے حضرات، کہ اللہ ربّ العزت بیشک دلوں کا حال جانتا ہے اور بندے کی نیّت سے خوب واقف ہوتا ہے۔ اعتکاف کے دوسرے روز سے ہی میں نے ایک بابا دوست بنا لیا تھا جو رات دیر كو مسجد آتا تھا اور تحجّد پڑھ کر فجر کے بعد واپس چلا جاتا تھا۔ وہ بھی ایک کمال کا بزرگ تھا پر فی الحال میں یہ بتاتا چلوں کے م...

Tribute to Our Great General from Turkey

Image