Posts

Showing posts with the label sheikh mujeeb ur rahman

سقوط مشرقی پاکستان کے اصل حقائق

Image
1994/95 کی بات ہے، ایوان کارکنان پاکستان (لاہور) میں 16 دسمبر کی تقریب تھی، میجر جنرل (ر) رائو فرمان علی جو مشرقی پاکستان کے آخری گورنر اے ایم مالک کے مشیر اور پھر بھارت میں قید رہے تھے، سقوط مشرقی پاکستان کے اسباب و واقعات پر روشنی ڈال رہے تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ہم تو یہاں سے ایک ہزار میل دور تھے اور ادھر سے ہم پر عجب عجب فیصلے تھوپے جا رہے تھے۔ یہ بے نظیر زرداری کی دوسری حکومت تھی، سامعین رائو صاحب سے مطالبہ کر رہے تھے کہ آپ کھل کر بتائیں کہ فیصلے کون کر رہا تھا اور وہ بتا نہیں پا رہے تھے۔ اتنے میں ایک صاحب اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ’’میں بتاتا ہوں کہ فیصلے کون کر رہا تھا۔ میرا نام کرنل محمود ہے اور کرنل سلیم اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھارتی طیارہ گنگا (30 جنوری 1971ئ) کو لاہور ایئر پورٹ پر اتار لیا گیا تو صدر پاکستان جنرل یحییٰ کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر بتایا گیا کہ ایک بھارتی طیارہ ہائی جیک ہونے کے بعد لاہور کے ہوائی اڈے پر آن اترا ہے۔ اس کا کیا کیاجائے؟ جنرل یحییٰ نے نہایت بے نیازی سے جواب دیا: ’’جائو، بھٹو سے جا کے پوچھ لو‘‘۔ اس پر ہال میں ’’شیم شیم‘‘ کے نعرے ب...

سقوط ڈھاکہ اور قدرت کا انتقام

Image
پاکستان توڑنے والوں کے ساتھ قدرت کا ایسا رویہ کہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے سقوط ڈھاکہ کو آج 44 سال ہوچکے ہیں لیکن اس سانحے کے ذمہ داران کو کسی اور نے سزا دی ہو یا نہ دی ہولیکن قدرت نے ضرور دی۔ سابق بیورو کریٹ ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ”14 اگست پاکستان کا اور 15اگست ہندوستان کا یوم آزادی ہے۔ 15 اگست 1975ءکو ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمن اور اس کے خاندان  کو قتل کردیا گیا، صرف اس کی بیٹی حسینہ واجد محفوظ رہی کیونکہ وہ وہاں موجود نہیں تھی۔ 4 اپریل 1979ءکو جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کو پھانسی چڑھایا۔ 13 اکتوبر 1984ءکے دن ہندوستانی وزیراعظم اندرا گاندھی کو خود اس کے اپنے محافظوں نے گولیوں سے بھون دیا۔ یحییٰ خان ذلت و رسوائی کے ساتھ خوفزدہ قید کی زندگی گزار کر مرگیا۔ وہ قیامت تک نفرت کی علامت رہے گا۔ پھر قدرت کا انتقام صرف یہاں تک محدود نہ رہا شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی کی تمام نرینہ اولاد (Male) غیر فطری موت مری۔ پاکستان توڑنے والوں کا انجام کس قدر خوفناک اور عبرتناک تھا۔ تاریخ میں ملک ٹوٹتے رہے ہیں، ملکوں کے جغرافیے بدلتے رہے ہیں، روس ...