Posts

Black Day in the History of Pakistan

Image
Nawai Waqt Newspaper Headlines announcing the sad incident of Pakistan's history

When Russian Ambassador made rude comments to General Zia

Image

تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی

Image
تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی۔۔ یہ واقعہ غالباً 1983-84 کا ہے۔ جب لاہور شہر میں ایک پانچ سالہ معصوم بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی اور زیادتی کے بعد اُس کو قتل کردیا گیا۔ اُس وقت کے صدرِ مملکت اور آرمی چیف جنرل ضیاءالحق شہید نے 24 گھنٹوں کے اندر اندر قاتل کو گرفتار کروایا اور سرِعام پھانسی پر لٹکایا اور پھر کافی عرصے تک امن رہا اور دوبارہ ایسا گھناؤنا واقعہ رونما نہ ہوا۔۔ کاش آج بھی ہمارے درمیان جنرل جیسا حکمران ہوتا، تو قصور میں رونما ہونے والے سابقہ اور موجودہ گھناؤنے واقعات میں ملوث ملزمان کو سرعام لٹکادیا جاتا۔۔

The strategy of soviet war by General Zia Ul Haq

A report by ARY news regarding the war of soviet union and perfect execution by General Zia ul Haq.

criterion for a great general in Islam

Image

الذوالفقار اور ضیاءالحق شہید

Image
جنرل ضیاءالحق شہید پر ایک نہیں کہیں قاتلانہ حملے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک کا اعتراف آصف بٹ کی شائع ہونے والی سوانح عمری ”کئی سولیاں سرِ راہ تھیں“میں کیا گیا۔ اس کتا ب میں وہ لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔ میر شاہنواز بھٹو ہمارے گوریلا کمانڈر تھے جن کو تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) نے مسلح تربیت دی تھی جبکہ میر مرتضی بھٹولیبیا کے صدر قذافی کی مالی امداد سے کابل میں ہمارے اخراجات برداشت کر رہے تھے۔ آصف بٹ کو کابل میں مرتضی بھٹو نے میزائل کے ذریعے جنرل ضیاءالحق  کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ وہ نام بدل کر راولپنڈی آیا اور ایئر پورٹ کے قریب ایک گھر کرائے پر لیا جس کی چھت سے اس نے میزائل داغنا تھالیکن سیر سپاٹے کے شوق میں گرفتار ہو کر پشاور جیل پہنچ گیا۔ یہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تو کابل سے حکم ملا کہ بھارت کے راستے سے افغانستان آ جاو ¿۔ موصوف نے نارووال کے قریب سے سرحد پار کرنے کی کوشش کی تو بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے بھگا دیا اور کچھ عرصہ بعد گرفتار ہو گئے۔ آصف بٹ لکھتا ہے کہ کہ الذوالفقار نے چوہدری ظہور الہی کو نہیں بلکہ مولوی مشتاق حسین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ 25ستمبر 1981...

سقوط مشرقی پاکستان کے اصل حقائق

Image
1994/95 کی بات ہے، ایوان کارکنان پاکستان (لاہور) میں 16 دسمبر کی تقریب تھی، میجر جنرل (ر) رائو فرمان علی جو مشرقی پاکستان کے آخری گورنر اے ایم مالک کے مشیر اور پھر بھارت میں قید رہے تھے، سقوط مشرقی پاکستان کے اسباب و واقعات پر روشنی ڈال رہے تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ہم تو یہاں سے ایک ہزار میل دور تھے اور ادھر سے ہم پر عجب عجب فیصلے تھوپے جا رہے تھے۔ یہ بے نظیر زرداری کی دوسری حکومت تھی، سامعین رائو صاحب سے مطالبہ کر رہے تھے کہ آپ کھل کر بتائیں کہ فیصلے کون کر رہا تھا اور وہ بتا نہیں پا رہے تھے۔ اتنے میں ایک صاحب اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ’’میں بتاتا ہوں کہ فیصلے کون کر رہا تھا۔ میرا نام کرنل محمود ہے اور کرنل سلیم اس بات کے گواہ ہیں کہ جب بھارتی طیارہ گنگا (30 جنوری 1971ئ) کو لاہور ایئر پورٹ پر اتار لیا گیا تو صدر پاکستان جنرل یحییٰ کو اسلام آباد ایئر پورٹ پر بتایا گیا کہ ایک بھارتی طیارہ ہائی جیک ہونے کے بعد لاہور کے ہوائی اڈے پر آن اترا ہے۔ اس کا کیا کیاجائے؟ جنرل یحییٰ نے نہایت بے نیازی سے جواب دیا: ’’جائو، بھٹو سے جا کے پوچھ لو‘‘۔ اس پر ہال میں ’’شیم شیم‘‘ کے نعرے ب...